Part of a cluster — open full story hub

Summary
भारत ने इज़राइल को 2,596 हथियारों की खेप भेजी है, जिसके बारे में अमनेस्टी इंटरनेशनल ने रिपोर्ट की है। भारतीय कंपनियों ने इज़राइल को हथियार बेचे हैं, जिसका उपयोग नरसंहार के लिए किया जा सकता है।
From the report
ابھی نئی رپورٹ آئی ہے ایمنسٹی انٹرنیشنل کی جو بتا رہی ہے کہ بھارت کی کمپنیاں ہتیار بیچ رہی تھیں اسرائیل کو یہ جاننے کے باوجود بھی کہ ان کا استعمال ہو سکتا ہے نرسنگھار کے لیے قضا میں جو یدپراد ہوئے نرسنگھار ہوا ان میں بھارتی کمپنیوں کی بھومکہ پر بہت ہی گمبیر اس وقت سوال اٹھ رہے ہیں کیا مانے ہیں آپ کے لیے اس کو ہم کس طرح سے دیکھیں گے اس کا قانونی پہلو اور اس کا انسانی پہلو کیا ہے 2014 سے خاص کر یہ دیفنس ڈیلز بہت زیادہ بڑھ گئی ہے نہ صرف سٹیٹ کا ریلیشنشپ بیٹھے بھلکہ انڈین کورپوریشنز جو ہے جو بڑی کمپنیاں ہیں وہ لگاتار سپلائی کرتی جا رہی ہیں مٹیریلز اسرائیل کو بڑی بڑی ریلز کر رہی ہیں ان کے ساتھ کس طریقے سے انڈیا نے اپنے ایکسپورٹ کو بہت ہی انٹریسٹنگ بنایا ہوا ہے جس میں الاؤ کیا جا رہا ہے بہت ہی زیادہ قاتلانہ ویپنز کی سپلائے جو کہ یہ جانتے ہوئے بھی کہ اتنا بڑا نرس انہار ہو رہا ہے ایمنسٹی انٹرنیشنل نے بڑا دعویٰ کیا ہے وہ یہ کہہ رہے ہیں کہ سات اکتوبر دو ہزار تیس کے بعد بھارت نے اسڈرائیل کو کم سے کم دو ہزار پانچ سو چھانوے ہتھیاروں اور سینے سامان کی کھیب بھیجی ہے یہ خبر تھی جس پر پہلے سے ہی ہمیں اندازہ تھا اور سیل لگ گئی آپ نے کس طرح سے دیکھتی ہیں آپ کے جو ایمنسٹری انٹرنیشنل کی ریپورٹ آئی ہے حالانکہ ایک اور رپورٹ آئی ہے جو یہ ریکارڈ کر رہی ہے کہ کتنے شرمناک انسیڈنس میں ہماری گورنمنٹ ہماری کمپنیز جو ہیں وہ سب انگولڈ ہیں پورے جینوسائیڈ کو انہوں نے ایسا بنا کے رکھ دیا ہے کہ ہر بزنس جو ہے اب اس سے لنگڈ ہے آپ مانیں گے نہیں حلدی رام تک کی کنیکشنز ادھر سے نکل کے آئے ہیں ڈاکٹر ریڈیز تک کی کنیکشنز ادھر سے نکل کے آئے ہیں تو اس اوکیوپیشن سے جو جو لوگ افیکٹ ہو رہے ہیں وہ پہلے ہی معلوم تھا اس طرح سے ہتھیار بھیجنا اور جینوسائیڈ میں ایک طرح کا یہ پارٹسپیشن جو دکھ رہا ہے انڈریکٹلی صحیح اس کو فلسطین اور فلسطین کا فاظ اور فلسطین کے لوگ کیسے دیکھ رہے ہوں گے لوگوں کو یہ پتا چل گیا ہے کہ ہندوستان میں دو طرح کے لوگ ہیں ایک وہ لوگ جنہوں نے اپنی مورالٹی کو کمپلیٹلی کمپرمائز کر دیا ہے اور دوسرے وہ لوگ جو کہ اخلاقی جرت رکھتے ہیں جن کے اندر مورل کرج ہے جو کہ سوال اٹھاتے ہیں جواب ماؤتے ہیں اور وہ پرسنل رسک سے کتراتے نہیں ہیں نمسکار دوائر میں آپ کا سواگت ہے میں ہوں عارفہ خانم شیربانی کچھ خبریں ایسی ہوتی ہیں جو آپ کو جھنجوڑ دیتی ہیں اور دل توڑ دیتی ہیں ایک ایسی خبر آپ کو بتانے جا رہی ہوں آپ کو معلوم ہے کہ فلسطینی لوگ بچے مہلائیں دو سال بلکہ ابھی لگتار چل رہا ہے لیکن دو سال تک کس طرح سے سکریہ نرسنگھار ان بچوں کا مہلاوں کا پروشوں کا ہوا پورے کے پورے ایک پورے سیولائزیشن کو نسل کو تباہ کرنے کی کوشش کی گئی اس بارے میں تمام طرح کی ریپورٹ آتی رہی ہے ایک اور ریپورٹ آئی ہے جیسے میں نے کہا دل توڑ دینے والی ریپورٹ کیونکہ اس کا سموند سیدھے بھارت سے ہے ابھی نئی رپورٹ آئی ہے ایمنسٹی انٹرنیشنل کی جو بتا رہی ہے ید اپراد اور ساتھ ساتھ نرس انگار کے عاروپوں کے باوجود اسرائیل کو ہتیار اور سین سامان بیچنا جاری رکھا اور صاف طور پر یہ کہنا چاہتے ہیں کہ موڈی سرکار نے یہ کاروبار تب بھی نہیں روکا اگر آپ کو فلسطین کے بچوں کی فکر نہیں تھی ان کی عورتوں کی ان کے سیولائزیشن کی آپ کو مانفتہ کی فکر بھی نہیں تھی تو کم سے کم یہ تو سوچا ہوتا جو اب بتانے جا رہے ہیں صدحات وہ یہ کہہ رہے ہیں کہ دوہزار چوبیس میں اسرائیلی حملے میں سینکت راشت کے لیے جو کام کر رہے تھے بھارت کے ریٹائرڈ سینہ کے عدکاری کرنل ویبھاو انیل کالے ان کی بھی ہتیا کر دی گئی تب بھی ان ہتیاروں کو بھیجنے کا سلسلہ جاری رہا جی ہاں فلسطین کی بات نہیں اپنے سینک ادھکاری کے ہتیا کے باوجود بھی ان ہتیاروں کو بھیجنے کا سلسلہ جاری رہا ایمنسٹی انٹرنیشنل نے بڑا دعویٰ کیا ہے وہ یہ کہہ رہے ہیں کہ سات اکتوبر دو ہزار تیس کے بعد بھارت نے اسرائیل کو کم سے کم دو ہزار پانچ سو چھانوے ہتیاروں اور سینے سامان کی کھیب بھیجی ہے اور سنگٹن کا کہنا ہے کہ غزہ میں جو یدپراد ہوئے ہیں نرسنگھار ہوا ان میں بھارتی ایک کمپنیوں کی بھومکہ پر بہت ہی گمبیر اس وقت سوال اٹھ رہے ہیں کیا کہتی ہے یہ رپورٹ ایمنسٹری انٹرنیشنل کیا کہہ رہا ہے بھارت کی سکار بھارت کی کمپنیاں بھارت کی مانوتا بھارت کی نیتکتا جو ہم بتایا جاتا ہے ہم کو پانچ ہزار سال پرانا ہم سیولائزیشن ہیں وہ کیا بتاتا ہے یہ سیولائزیشن کس کے لیے کھڑا ہوتا ہے اور کس کے لیے نہیں میرے ساتھ اس وقت سبکہ عباس نقبی موجود ہیں سبکہ جانیوانی ہیومن رائٹس انہوں نے کہا اورگنائزر ہیں میں نے اس کا ڈسٹنکشن برقرار رکھا ہے لیکن فلسطین کے لیے اکثر بولتی رہی ہیں اور مجھے یاد آئے کہ کئی بار میں نے خود ان کی پیشنٹ سپیچر سنی ہے سبکہ اس رپورٹ کے کیا معنی ہیں آپ کے لیے اس کو ہم کس طرح سے دیکھیں گے اس کا قانونی پہلو اور اس کا انسانی پہلو کیا ہے بہت بہت شکریہ آرفہ for having me here I think اس کا ایک بہت بڑا اخلاقی پہلو ہے اور ایک بہت بڑا لیگل پہلو ہے اور ہم دیکھتے چلے آ رہے ہیں کہ انڈیا as a nation especially since 1992 after establishing a relationship with Israel defense deals کرتا چلا آ رہا ہے لیکن دوہزار چودہ سے خاص کر یہ ڈیفنس ڈیلز بہت زیادہ بڑھ گئی ہے نہ صرف سٹیٹ کا ریلیشنشپ ویڈیوز یعنی نہ صرف سرکاری ریلیشنشپ بیٹوین دی گورنمنٹ آف ایزرائیل اور گورنمنٹ آف انڈیا بلکہ انڈین کورپوریشنز جو ہے جو بڑی کمپنیاں ہیں وہ لگاتار سپلائی کرتی جا رہی ہیں مٹیریلز ازرائیل کو اور بڑی بڑی ڈیلز کر رہی ہیں ان کے ساتھ ایم نیسٹی کے ریپورٹ میں یہ ساری کمپنیز کی لسٹ already موجود ہے اور اگر آپ جن لوگوں نے ریپورٹس نہیں پڑھی ہیں وہ پڑھ لیں بھئی اس میں آپ دیکھیں گے کہ اس میں بہت ساری پرائیوٹ کمپنیز منشن ہیں of course اڈانی اونڈ کمپنیز ڈیفنس ایکس ایم ڈاٹ گورنمنٹ ڈاٹ این یہ جو ویب سائٹ ہے اگر آپ اس کے اوپر جائیں گے تو ہمیں دکھے گا کہ کس طریقے سے انڈیا آہ نے اپنے export کو بہت ہی interesting بنایا ہوا ہے جس میں allow کیا جا رہا ہے بہت ہی زیادہ قاتلانہ weapons کی supply ہے جو کہ یہ جانتے ہوئے بھی that اتنا بڑا نرس انہار ہو رہا ہے that continuously Israel is committing genocide on the people of Palestine ابھی سے نہیں بہت وقت سے and that is the reason why India has refused to still sign the arms trade treaty ایک ای ٹی ٹی جو کہ یہ amnesty mention کرتی that entered into force in 2014 that a lot of human rights organizers have asked India to sign لیکن وہ obligations جس میں یہ صاف صاف لکھا ہے کہ ایک overriding risk اگر ان weapons کا ہے جس سے genocide commit ہو سکتی جس سے crimes against humanity commit ہو سکتے جس سے war crimes commit ہو سکتے جن سے civilians کے پر attack ہو سکتا ہے جن سے severe human rights violation ہوں گے ایسی arms treaty ہم sign نہیں کریں گے لیکن انڈیا نے نہ یہ sign کیا ہے یہ treaty کو اور نہ ہی ratified کیا ہے in fact انڈیا نے repeatedly un میں کہا ہے کہ ہم responsible trade کو تو وہ کرتے ہیں اور کیوں کرے گی because انڈیا کے میں اڈانی or even the government of India is truly benefiting from this. جیہاں. تو میں میں آتی ہوں اس پہ کہ کس طرح سے فائدہ ہو رہا ہے لیکن اپنے درشکوں کی جانکاری کے لیے تھوڑا سا اس کو simplify کرتے ہوں میں سابقہ میں یہ بھی سمجھنا چاہتی ہوں آپ سے کہ آپ کہہ رہی ہیں کہ legally تو تھوڑا سا complicated لگ رہا ہے یہ معاملہ کہ کوئی ایسا legal binding تو نظر نہیں آرہی کمپنیوں پر لیکن کیا یہ ہماری جو foreign policy رہی ہے پچھلے دس وارہ سال میں نریندر موڈی کے کارکال میں کئی بار ہم نے دیکھا کہ کہتے ہیں کہ ہم ٹو نیشن جو ثیری ہے ٹو نیشن کی بات ہے کہ فلسطین کا بھی سٹیٹ ہونا چاہیے اسرائیل کا بھی ہونا چاہیے ہم اس کا سپورٹ کرتے ہیں کئی بار ہم نے یہ دیکھا کہ فلسطین پر یونائٹڈ نیشن میں بھارت نے ابسٹین کیا اگر خلاف ووٹ نہیں بھی کیا تو بھی ابسٹین کیا تو کئی بار ہم نے یہ بھی دیکھا کہ ووٹ بھی کیا کچھ گھنٹے پہلے وہاں کہہ کے آئے تھے اسرائیل کے سنصد میں کہ بھارت کے ایک سو چالیس کروڑ لوگ آپ کے ساتھ ہیں تو یہ اب ہتھیاروں کا بیچنا ہتھیاروں کی کمپنی کا ان کو لگتار بیچتے رہنا یہ تو بالکل ساتھ ساتھ جا رہا ہے جو ہماری فورن پالیسی ہے اس کے ساتھ ہماری فورن پالیسی بھی یہ ہے اور ہماری فورن پالیسی کی جو وچاردھارہ ہے جو آئیڈیولوجی ہے دیکھئے ہمیں بار بار کہتے ہیں کہ یہ جو current government ہے وہ ایک particular وچاردھارا کے تحت چل رہی ہے اور اس وچاردھارا کا حصہ ہے اس طریقے کا ایک bold uber masculine defense system تیار کرنا جو کہ also بہت ہی زیادہ اسلامو فوبک ہے اور یہ government کا support base ہی ایک بڑی اسلامو فوبک جنتہ سے uh has continuously had defense relationships where israeli uh has bought israeli niche weaponry and israeli defense experts and private companies have come down to india to actually train our forces, defense forces. We've also had, especially after 2008, we've also had police training. And we have a lot of officials, our police officials and state officials, especially for defense, for defense training, for expertise, for learning, actually regularly go to Israel. Means one such country which we say again and again, is made up of anti-colonial struggle, Today, after so many decades of independence, we are standing at a place where we stand with the colonial powers who are illegally occupying the lands. India has historically shown so much friendship with Palestine and so many times it has shown its support to Palestine. But that position has gravely changed, not just in the government but also in the supporters of this government. government that position has clearly shifted and um we must see that this is a larger partnership that india is having with israel because uh own national state. India is saying that it will not be used only for defence. We have seen that many such technologies that have been taken from them can be used at different times for the benefit of civilians. So I think the truth is that India's defence partnership is happening for this reason as well because there has been a lot of lack of movement in holding the Indian government accountable for the kind of arms deals and defence deals and defence purchases that India has been doing over for the past many decades. It was when India had run the non-alignment movement, whatever the politics of the non-alignment movement were. The thing is that we have entered an era where we are competing with major defense armies, et cetera. This is also under a thought process. Why is that?